فهرس الكتاب

الصفحة 3815 من 5274

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل

باب: جو مچھلی مر کر اوپر تیر آئے اس کا کھانا( کیسا ہے ؟ )

3815 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلَ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَلْقَى الْبَحْرُ أَوْ جَزَرَ عَنْهُ فَكُلُوهُ وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا فَلَا تَأْكُلُوهُ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَيُّوبُ وَحَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَوْقَفُوهُ عَلَى جَابِرٍ وَقَدْ أُسْنِدَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " سمندر جو باہر پھینک دے یا پانی پیچھے ہٹ جانے کی صورت میں جو زمین پر رہ جائے اسے کھا لو اور جو اس میں مر گئی ہو اور اوپر تیر آئے تو اسے مت کھاؤ ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری ' ایوب اور حماد نے ابوالزبیر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اسے سیدنا جابر پر موقوف کیا ہے ۔ اور دوسری سند سے یہ روایت مسند مرفوع بیان کی گئی ہے جو ضعیف ہے ۔ یعنی ابن ابی ذئب نے بیان کیا ابوالزبیر سے ' انہوں نے سیدنا جابر ؓ سے ' انہوں نے نبی کریم ﷺ سے ۔

فائدہ۔یہ روایت سندا ضعیف ہے۔تاہم از خود مرنے والی مچھلی حلال ہے۔جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم میں جیش الخبط کا معروف واقعہ مذکور ہے۔کہ حضرت ابو عبیدہ کی زیر قیادت اس لشکر کو ابتداء میں انتہائی مشقت کا سامناکرنا پڑا۔بڑی سخت بھوک برداشت کرنی پڑی۔مگر بعد میں انھیں سمندر کے کنارے بہت بڑی مچھلی مل گئی۔جس کوو ہ دوہفتے تک کھاتے رہے۔اور بعض لوگ اس کا کچھ حصہ بچاکر مدینے بھی لے آئے۔جو رسول اللہ ﷺ کی خواہش پر آپﷺ کو بھی پیش کیا گیا۔اور آپﷺنے اسے تناول فرمایا۔ (صحیح البخاری۔المغازی۔حدیث 4360 ومابعد) آگے حدیث 3840 میں تفصیل آرہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت