فهرس الكتاب

الصفحة 214 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب:(مباشرت کےموقع پر)اگر جذبات ٹھنڈے ہوجائیں...؟

214 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ أَرْضَي أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >إِنَّمَا جُعِلَ ذَلِكَ رُخْصَةً لِلنَّاسِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ, لِقِلَّةِ الثِّيَابِ ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُسْلِ وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.

قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي: الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ

سیدنا ابی بن کعب ؓ نے ان ( سہل بن سعد ) کو خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے اول اسلام میں اس بات کی رخصت دی تھی ( کہ انزال نہ ہونے پر غسل نہ کیا جائے ) کیونکہ لوگوں کے پاس کپڑے کم ہوتے تھے ، مگر اس کے بعد غسل کرنے کا حکم دے دیا تھا اور اس ( پہلی رخصت ) سے منع کر دیا تھا ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں ، راوی کی مراد ( اسلام کا پہلا حکم ) ہے کہ " پانی سے پانی لازم آتا ہے ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت