فهرس الكتاب

الصفحة 3838 من 5274

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل

باب: اہل کتاب( یہود و نصاریٰ )کے برتنوں میں کھانا ؟

3838 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى وَإِسْمَعِيلُ عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ وَأَسْقِيَتِهِمْ فَنَسْتَمْتِعُ بِهَا فَلَا يَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں جہاد پر جاتے تھے تو ہم مشرکوں سے برتن اور مشکیزے لے کر استعمال کر لیتے تھے اور آپ ﷺ اسے عیب نہ سمجھتے تھے ۔

فائدہ۔مشرکین یااہل کتاب کے برتنوں کے متعلق جب یہ یقین ہوکہ ان کے برتن پاک صاف ہیں۔اور کسی حرام شے سے آلودہ نہیں ہیں۔تو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ہاں اگر شبہ ہو تو اس کو دھو کرپاک کرنا چاہیے۔خصوصا عیسائی یہودی اور مشرک ممالک میں غالب گمان ہوتا ہے۔کہ وہ لو گ حرام چیزوں سے پرہیز نہیں کرتے۔ تو وہاں احتیاطًا دھو لینا ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت