فهرس الكتاب

الصفحة 2865 من 5274

کتاب: وصیت کے احکام و مسائل

باب: وصیت میں کسی کو نقصان پہنچانا ناجائز ہے

2865 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ حَرِيصٌ تَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَتَخْشَى الْفَقْرَ وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول ! کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " تو صدقہ کرے اس حالت میں جبکہ تو صحت مند ہو ' مال کا حریص ہو ' زندگی کی امید رکھتا ہو اور فقیر ہو جانے کا کھٹکا لگا رہتا ہو ۔ جو کچھ دینے کا ارادہ ہو تو اس میں ڈھیل نہ کر حتیٰ کہ جب جان حلق میں آن اٹکے تو کہنے لگے: فلاں کے لیے اتنا ہے اور فلاں کے لیے اتنا ' حالانکہ وہ فلاں کا ہو چکا ہے ۔ " ( وراثت کی بنا پر ) ۔

تندرستی کے ایام میں اور اپنی ضروریات کوبالائے طاق رکھ کر جو صدقہ کیا جائے وہ افضل ہے۔اور موت کے وقت صدقہ کرنا اپنے وارثوں کے حق میں دخل اندازی اور ان کے حق کو قائم کرنا ہے۔جوکسی طرح مناسب نہیں۔اس لئے شریعت نے جانکنی کے وقت ثلث مال سے زیادہ صدقہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت