فهرس الكتاب

الصفحة 2914 من 5274

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل

باب: جو کوئی کسی میراث پر مسلمان ہوا

2914 حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ قَسْمٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى مَا قُسِمَ لَهُ وَكُلُّ قَسْمٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلَى قَسْمِ الْإِسْلَامِ

سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " جو تقسیم ( قبل از اسلام ) جاہلیت میں ہو چکی سو ہو چکی ( وہ اسی کے مطابق رہے گی ) اور جو اسلام قبول کرنے تک نہیں ہوئی ، وہ اب اسلام کے دستور کے مطابق ہو گی ۔ "

فائدہ۔اسلام نے آنے کے بعد جاہلیت کے اعمال کے کوئی معنی نہیں۔ایسا آدمی جو جاہلیت کے اعمال پرکار بند ہو اس نے یا تو اسلام قبول ہی نہیں کیا۔یا کیا ہے تو پھر اسلام کو دین نہیں سمجھا۔اس لئے واجب ہے کہ عقائد وعبادات کے بعد مالی اور غیر مالی سب معاملات اصول اسلام کے مطابق عمل میں لائے جایئں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت