2454 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ ابْنِ حَزْمٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ, فَلَا صِيَامَ لَهُ. قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ اللَّيْثُ وَإِسْحَقُ بْنُ حَازِمٍ أَيْضًا جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مِثْلَهُ وَوَقَفَهُ عَلَى حَفْصَةَ مَعْمَرٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَيُونُسُ الْأَيْلِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ام المؤمنین سیدہ حفصہ ؓا سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا " جس شخص نے فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی تو اس کا روزہ درست نہ ہو گا ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ یہ روایت امام لیث اور اسحاق بن حازم نے بھی عبداللہ بن ابی بکر سے اسی کے مثل مرفوعًا روایت کی ہے اور معمر ' زبیدی ' ابن عیینہ اور یونس الایلی بواسطہ زہری ، سیدہ حفصہ ؓا سے موقوفًا روایت کرتے ہیں ۔
فرض روزوں میں فجر سے پہلے نیت کر لینا ضروری ہے اور افضل یہ ہے کہ ہر ہر روزے کی نیت علیحدہ سے کی جائے مگر خیال رہے کہ نیت دل کے عزم و ارادہ کا نام ہے۔ ان عبادات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یا ان کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے لفظی نیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے، لفظی نیت کا اہتمام بدعت ہے۔