1657 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَعُدُّ الْمَاعُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَوَرَ الدَّلْوِ وَالْقِدْرِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں «الماعون» سے مراد یہ لیتے تھے کہ کسی کو استعمال کی غرض سے عاریتًا ڈول دے دیا یا ہنڈیا دے دی ۔
1۔سورت الماعون میں ہے۔ (فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ {4} الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ {5} الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ {6} وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ) ہلاکت ہے ان نمازیوں کےلئے جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔ دکھلاوا کرتے ہیں اور برتنے کی چیزیں نہیں دیتے۔ یقینًا عام استعمال کی چیزیں لینا دینا معاشرتی زندگی کا لازمہ ہیں۔ اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اسے مال کا شرعی حق سمجھتے تھے۔2۔کھلے دل سے عام چیزیں عاریتًادے دینا عمدہ اخلاق کی دلیل ہے۔مگر اس میں یہ نہیں کہ کوئی مانگے تانگے ہی سے گزر بسر شروع کردے۔ یہ سوچ ار عمل از حد پستی کا غماز ہے۔ہاں کبھی کوئی ضرورت پڑے تو عیب نہیں۔