2940 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نُبَايِعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَيُلَقِّنُنَا فِيمَا اسْتَطَعْتَ
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ سے سمع اور اطاعت پر بیعت کرتے تھے ( آپ کے احکام سنیں گے اور بخوشی عمل کریں گے ) اور آپ ﷺ ہمیں تلقین فرماتے " ان میں جن میں تم طاقت رکھو ۔
اسلام اور جہادی بعیت کے بعد شوریٰ کے زریعے سے منتخب حکمران کی بعیت بیعت حکومت کہلاتی ہیں۔اس بعیت سے دو مقاصدحاصل ہوتے ہیں۔2۔یہ بعیت اس بات کی علامت تھی۔کہ لوگوں نے تجویز ہونے والےنام کو قبول کرلیاہے۔اس بعیت کے بعد خلافت کاانعقاد ہوجاتا تھا۔3۔تمام مسلمان شوریٰ کے زریعے سے منتخب حکمران ان سے تعاون کریں گے۔ یہ ایک طرف کا عمرانی معاہدہ ہے۔خلفائے راشدین نے ان الفاظ کا اضافہ کرایا۔ کہ سمع وطاقت ان کاموں میں ہوگی۔ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺکے احکامات اور سابقہ خلفائے راشدین کے اقدامات کے مطابق ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے بعیت کے الفاظ میں انسانی استطاعت کے مطابق کے الفاظ شامل کرنے کی تلقین اس لئے فرمائی کہ بعیت کرنے والے خود کو ایسی صورت حال میں نہ پایئں جس کی انسان استطاعت ہی نہیں رکھتا