فهرس الكتاب

الصفحة 3531 من 5274

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

باب: جب کوئی شخص اپنا مال بعینہ کسی کے پاس پائے ؟

3531 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَيَتَّبِعُ الْبَيِّعُ مَنْ بَاعَهُ

سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جو شخص اپنا مال بعینہ کسی کے پاس پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے ( لہٰذا وہ لے لے ) اور ( جس کے پاس یہ پایا گیا ہے ) اسے چاہیئے کہ اپنے بیچنے والے کے درپے ہو ( اس پر دعویٰ کرے ) ۔

فائدہ۔کوئی غصب شدہ چوری شدہ یا گم شدہ مال اگرکسی کے پاس ملے۔تو وہ اصل مالک کا حق ہے۔یعنی خریدار تو وہ مالک اصل مالک کو دےدے۔اور اپنا نقصان یعنی اس مال کی قیمت اس سے وصول کرے۔ جس سے اس نے خریدا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت