1254 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنْ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی نوافل پر اتنی پابندی نہ فرماتے تھے جتنی فجر کی سنتوں کی کرتے تھے ۔
فائدہ: رسول اللہ ﷺ فجر کس سنتیں سفر میں بھی ترک نہیں فرماتےتھے ۔اس لیے بعض محدثین مثلًا حسن بصری انہیں واجب کہتےہیں ایسے ہی امام ابوحنیفہ بھی اس سےواضح ہواکہ دوسری سنتوں کےمقابلے میں فجر کی ان دو سنتوں کی بہت زیادہ اہمیت ہے