فهرس الكتاب

الصفحة 3541 من 5274

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

باب: کوئی کام کر دینے پر ہدیہ لینا

3541 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَفَعَ لِأَخِيهِ بِشَفَاعَةٍ فَأَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً عَلَيْهَا فَقَبِلَهَا فَقَدْ أَتَى بَابًا عَظِيمًا مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا

سیدنا ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " جس نے اپنے کسی بھائی کی سفارش کی اور پھر اسے اس پر کوئی ہدیہ دیا ، تو اگر اس نے اسے قبول کر لیا تو ، وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا ۔ "

فائدہ۔مسلمان بھائی کے جائز حق کے بارے میں سفارش کرنا یا درست کاموں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا اسلامی شرعی حق ہے۔اللہ کے نزدیک اس کا بہت اجر ہے۔ایسے کام پر ہدیہ قبول کرنے کے کوئی معنی نہیں۔بلکہ اس طرح سارا اجر وثواب غارت ہوجاتا ہے۔یہ رشوت ستانی کادروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت