فهرس الكتاب

الصفحة 2376 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: روزے دار کو رمضان میں دن کے وقت احتلام ہو جائے تو...؟

2376 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ، وَلَا مَنِ احْتَلَمَ، وَلَا مَنِ احْتَجَمَ.

ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جسے قے آ جائے یا ( نیند میں ) احتلام ہو جائے یا جو سینگی لگوائے ، تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ "

یہ روایت معنی صحیح ہے، یعنی صحیح روایات سے اس میں بیان کردہ باتیں ثابت ہیں۔ تاہم قصدا قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اگر بغیر قصد کے قے آ جائے تو روزہ ٹوٹتا، اسی طرح جاگتے ہوئے منی کا انزال ہو جائے خواہ مشت زنی سے ہو یا بیوی سے جماع کرنے سے یا اس سے لپٹنے یا بوسلہ لینے کی وجہ سے تو بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت