فهرس الكتاب

الصفحة 3209 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: میت کو اتارنے کے لیے قبر میں کتنے آدمی اتریں ؟

3209 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ وَالْفَضْلُ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَهُمْ أَدْخَلُوهُ قَبْرَهُ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْحَبٌ أَوْ أَبُو مَرْحَبٍ أَنَّهُمْ أَدْخَلُوا مَعَهُمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَلَمَّا فَرَغَ عَلِيٌّ قَالَ إِنَّمَا يَلِي الرَّجُلَ أَهْلُهُ

جناب عامر شعبی ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا علی ، فضل اور اسامہ بن زید ؓم نے رسول اللہ ﷺ کو غسل دیا اور انہوں نے ہی آپ ﷺ کو قبر میں اتارا ۔ شعبی نے کہا کہ مجھے مرحب یا ابن ابی مرحب ( سوید بن قیس ) نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنے ساتھ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو بھی شامل کیا تھا اور جب سیدنا علی ؓ فارغ ہوئے تو کہا: تدفین وغیرہ کے عمل میں آدمی کے اپنے اہل کے افراد ہی حصہ لیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت