فهرس الكتاب

الصفحة 42 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: استنجا کابیان

42 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى التَّوْأَمُ ح و حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ التَّوْأَمُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَقَالَ مَا هَذَا يَا عُمَرُ فَقَالَ هَذَا مَاءٌ تَتَوَضَّأُ بِهِ قَالَ مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ ( ایک بار ) رسول اللہ ﷺ نے پیشاب کیا تو سیدنا عمر ؓ پانی کا لوٹا لیے آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ۔ ( بعد از فراغت ) آپ ﷺ نے پوچھا عمر ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ پانی ہے کہ آپ اس سے وضو فر لیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " مجھے یہ حکم نہیں ہے کہ جب بھی پیشاب کروں ( تو ساتھ ) وضو بھی کروں ۔ اگر میں نے ایسے کیا تو ( امت کے لیے ) سنت بن جائے گی ۔ "

فائدہ: یہ روایت سندًا ضعیف ہے ۔ تاہم ہروقت باوضو رہنا ایک اچھا عمل ہے ۔ لیکن واجب نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت