فهرس الكتاب

الصفحة 2656 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: دوران قتال میں خاموشی کا حکم

2656 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ح، وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُونَ الصَّوْتَ عِنْدَ الْقِتَالِ.

سیدنا قیس بن عباد ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ قتال کے دوران میں آوازیں نکالنے کو ناپسند کرتے تھے ۔

1۔یہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک ضعیف ہے۔البتہ شیخ البانی اس کی بابت فرماتے ہیں۔کہ یہ روایت مرفوع نہیں موقوف صحیح ہے۔2۔دوران قتال بے معنی تکبر آمیز ڈینگیں مارنا اور اپنی بڑائی کا اظہار کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔تاہم مسلمانوں کے حوصلے بڑھانے۔بلند رکھنے۔آگےبڑھنے کی دعوت دینے اورکفار کودہانے کےلئے حسب احوال کچھ کہناجائز اور مطلوب ہے۔خود رسول للہ ﷺ کا یہ رجز دوران قتال ہی کا ہے۔ (انا النبي لا كذب انا ابن عبد المطلب) (صحیح البخاری الجہاد۔والسیر۔حدیث 3042) ایسے ہی حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بار اپنے مقابل سے کہا تھا۔یہ لو! اور میں اکوع کافرزند ہوں۔ (صحیح البخاری الجہاد۔والسیر۔حدیث3041) اور سب سے افضل عمل اللہ کا زکر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت