2057 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ، فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ، قَالَ: تَسْتَتِرِينَ مِنِّي، وَأَنَا عَمُّكِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: مِنْ أَيْنَ؟ قَالَ: أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي، قَالَتْ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا کا بیان ہے کہ افلح بن ابی القعیس میرے ہاں آئے تو میں نے ان سے پردہ کیا ۔ انہوں نے کہا: مجھ سے پردہ کرتی ہو ، حالانکہ میں تمہارا چچا ہوں؟ کہتی ہیں ، میں نے کہا: کہاں سے ؟ انہوں نے کہا: تم کو میری بھاوج نے دودھ پلایا ہے ۔ کہنے لگیں: مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے ، مرد نے نہیں پلایا ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو یہ بات بتائی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے ، تمہارے پاس آ سکتا ہے ۔ "
دودھ پلانے والی رضاعی ماں ہوئی تو اس کا شوہر رضاعی باپ اور اس کا بھائی ر ضائی چچا ہوا جس طرح دودھ پلانے والی سے تعلق جڑتا ہے۔ویسے ہی اس کے شوہر اور عزیزوں سے بھی جُڑ جاتا ہے۔