فهرس الكتاب

الصفحة 3212 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: قبر کے پاس کس طرح بیٹھیں ؟

3212 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَاذَانَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمْ يُلْحَدْ بَعْدُ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَجَلَسْنَا مَعَهُ

سیدنا براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے میں گئے ' ہم قبر کے پاس پہنچے تو ابھی تک لحد نہیں بنی تھی ۔ پس نبی کریم ﷺ قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھ گئے ۔

قبر کے پاس یا قبرستان میں کسی ضرورت کے تحت بیٹھ جانے میں کوئی حرج نہیں۔ اور قبلہ رو ہوکر بیٹھنا مستحب ہے۔مگر قبر کا مجاور بن کر بیٹھنا حرام ہے۔یاعین قبر کے اوپر بیٹھنا بھی ناجائز ہے۔ (مذید دیکھئے حدیث 3225)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت