فهرس الكتاب

الصفحة 40 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: ڈھیلوں کے ساتھ استنجا کرنا

40 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جب تم میں سے کوئی پاخانہ کے لیے جانے لگے تو اپنے ساتھ تین ڈھیلے لے جایا کرے ، ان سے استنجاء کر لیا کرے ، بیشک یہ اس کے لیے کفایت کریں گے ۔ "

فوائد ومسائل: (1) ہدایت ہے کہ رفع حاجت کے لیے بیٹھنے سے پہلے طہارت حاصل کرنے کا انتظام کرلیا جائے ۔ ممکن ہے برموقع کوئی چیز مہیا نہ ہو لہذا غیر معتمد مقامات پر نل کو پہلے دیکھ لیا جائے کہ آیا اس میں پانی بھی ہے یا نہیں۔ (2) ڈھیلے کا حکم سائل کے بدوی ہونے کی مناسبت سے ہے اور یہ ہے کہ تین ڈھیلوں سے استنجا پانی سے کفایت کرتا ہے آج کل ٹشوپیپر اس کا قائم مقام ہے ۔ تاہم افضلیت پانی ہی کے استعمال میں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت