458 حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمٍ الْبَاهِلِيُّ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الْحَصَى الَّذِي فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مُطِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ مُبْتَلَّةً فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِالْحَصَى فِي ثَوْبِهِ فَيَبْسُطُهُ تَحْتَهُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ مَا أَحْسَنَ هَذَا
جناب ابوالولید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر ؓ سے مسجد میں کنکریوں کے متعلق پوچھا ( کہ بچھائی جائیں یا نہیں ) تو انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک رات بارش ہو گئی اور زمین گیلی ہو گئی تو ہر آدمی اپنے کپڑے میں کنکریاں لے آتا اور اپنے نیچے بچھا لیتا ۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا " کس قدر اچھا کام ہے یہ ۔ "