فهرس الكتاب

الصفحة 3085 من 5274

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل

باب: مال مد فون ملے تو اس کا مسئلہ

3085 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ

سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " مال مدفون ( حاصل ہو تو اس ) میں پانچواں حصہ ہے ۔ " ( بیت المال میں عام مسلمانوں کی منفعت کے لیے دے ' کیونکہ یہ بلا مشقت حاصل ہوا ہے ۔ )

کسی اجاڑ زمین میں یا قدیم پرانی آبادی میں کسی کادفن کردہ مال جس کا مالک معلوم نہ ہو رکاز کہلاتا ہے جسے ایسا مال ملے وہ خمس (پانچواں حصہ) اداکرنے کےبعد اس کامالک بن جاتاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت