1045 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} [البقرة:144] ، فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَنَادَاهُمْ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ: أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ، -مَرَّتَيْنِ-، فَمَالُوا كَمَا هُمْ رُكُوعٌ إِلَى الْكَعْبَةِ.
سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے ۔ تو جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث كنتم فولوا وجوهكم شطره» " چنانچہ آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی جانب کر لیجئے اور تم جہاں بھی ہو اپنے چہرے اس کی طرف کر لو ۔ " تو ایک شخص بنو سلمہ کے افراد کے پاس سے گزرا جب کہ وہ فجر کی نماز میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے تو اس نے انہیں پکار کر کہا: خبردار ! قبلہ کعبہ کی جانب تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ اس نے دو بار یہ ندا دی ۔ چنانچہ وہ لوگ اپنی اسی رکوع کی حالت میں کعبہ کی جانب پھر گئے ۔
1۔اسلام میں احکام کا نسخ ثابت ہے۔اور جب تک اس کا علم نہ ہوجائے کوئی اس کا مکلف نہیں ہوا کرتا۔2۔کسی قابل اعتماد فرد واحد کی خبر بھی قابل قبول ہوتی ہے۔ جسے اصطلاحًا خبر واحد کہتے ہیں۔3۔لاعلمی میں اگر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لی گئی ہو تو وہ صحیح ہے۔4۔ضرورت کے پیش نظر نمازی کو حالت نماز میں وہ شخص تعلیم دے سکتا ہے۔جو نماز نہ پڑھ رہا ہو۔5۔ایسی تعلیم سے نمازی کی نماز خراب نہیں ہوتی۔واللہ اعلم۔