فهرس الكتاب

الصفحة 1159 من 5274

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل

باب: نمازعید کے بعد نماز پڑھنا ؟

1159 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا.

سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے روز نکلے ( عید کی ) دو رکعتیں پڑھیں ۔ اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی ۔ پھر عورتوں کی طرف آئے ، آپ ﷺ کے ساتھ بلال تھے ۔ آپ ﷺ نے ان ( عورتوں ) کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تو کوئی اپنی بالی اتار رہی تھی اور کوئی اپنا ہار ۔

عید کے روز عید گاہ میں کوئی نفل نہیں عید سے پہلے نہ بعد۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت