فهرس الكتاب

الصفحة 1514 من 5274

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل

باب: استغفار کا بیان

1514 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَصَرَّ مَنْ اسْتَغْفَرَ وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةٍ

سیدنا ابوبکر صدیق ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جو استغفار کو اختیار کر لے وہ " مصر " ( اصرار کرنے والے ) لوگوں میں نہیں ، خواہ ایک دن میں ستر بار گناہ کا اعادہ کرے ۔ "

استغفار کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا۔ کہ وہ ان کو اپنی رحمت سے ڈھانپ دے۔اور بندے کو رُسوا نہ کرے۔2۔اپنے گناہوں پراڑنا اور اصرار کرنا۔ظالموں اور گناہ گاروں کی عادت ہے۔ ( يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ) (الجاثیہ۔8) اللہ کی آیات کو سنتا ہے۔جو کہ اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر اڑا رہتا ہے۔ (اپنے گناہوں پر) تکبرکرتے ہوئے۔گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں۔ تو ایسے کو درد ناک عذاب کی خوش خبری سنادیجیئے۔ جب کہ متقی انسان کی صفت اس کے برخلاف ہوتی ہے۔ ( وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ) (آل عمران ۔135) متقی اپنے کیے پراصرار نہیں کرتے۔اور وہ جانتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت