فهرس الكتاب

الصفحة 701 من 5274

کتاب: سترے کے احکام ومسائل

باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت

701 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا أَدْرِي قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً

جناب زید بن خالد جہنی نے انہیں ( بسر بن سعید کو ) سیدنا ابوجہیم ؓ کے پاس بھیجا اور پچھوایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے متعلق کیا سنا ہے ؟ تو سیدنا ابوجہیم ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو اگر معلوم ہو جائے کہ اس پر کتنا گناہ اور عذاب ہے تو ( اس کے بدلے ) اسے چالیس کھڑا رہنا ، اس کے آگے سے گزرنے سے اچھا لگے ۔ " ابونضر نے کہا: نہ معلوم آپ نے چالیس کے لفظ کے ساتھ دن ، مہینہ یا سال ، کیا فرمایا ؟

(1) ا س سے اندازہ کیا جاسکتا ہےکہ جان بوجھ کرنمازی کےآگے سے گزرنا کتنا سخت گنا ہ ہے۔ نماز خواہ فرض ہویانفل۔

(2) چالیس کےعدد کےبعد دن ، مہینے یا سال کا ذکر نہ ہونا اس سزا کی شدت کےلیے ہے۔تاہم بعض ضعیف طرق میں (خریف) ''سال،، کا لفظ آیا ہے، اس سے گناہ کی شناعت وقباحت واضح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت