فهرس الكتاب

الصفحة 3743 من 5274

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل

باب: نکاح کے موقع پر ولیمہ کرنا مستحب ہے

3743 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ ذُكِرَ تَزْوِيجُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا أَوْلَمَ بِشَاةٍ

سیدنا انس بن مالک ؓ کی مجلس میں ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ؓا کے نکاح کا ذکر آ گیا تو انہوں نے کہا: میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی بیوی کے ولیمہ میں اس قدر اہتمام کیا ہو جتنا ان کے موقع پر ولیمہ میں کیا تھا ۔ آپ ﷺ نے ایک بکری سے ولیمہ کیا ۔

فائدہ۔یہ نکاح وحی کی بنیاد پر ہوا تھا۔اس میں ولی حق مہر اورگواہیوں کا کوئی اہتمام نہ تھا۔سورہ احزاب میں ہے۔

(فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ) (الاحزاب۔37)

پس جب زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی تو ہم نے اسے آپ کے نکاح میں دے دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے لےپالکوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے جب وہ ان سے اپنا جی بھرلیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت