فهرس الكتاب

الصفحة 3744 من 5274

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل

باب: نکاح کے موقع پر ولیمہ کرنا مستحب ہے

3744 حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ الزَّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ام المؤمنین سیدہ صفیہ ؓا کے نکاح میں ستو اور کھجور سے ولیمہ کیا تھا ۔

فائدہ۔ولیمہ کرنا مستحب ہے۔اور جو میسرہوپیش کردینا چاہیے۔ضرروی نہیں کہ گوشت ہی ہو۔آج کل ولیمے کی سنت پر عمل کیا جاتا ہے۔لیکن اصحاب حیثیت اس میں اتنا تکلف کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ اوراسراف وتبذیر کا یہ مظاہرہ اس کو شیطانی عمل میں تبدیل کردیتا ہے۔ (إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ) (بنی اسرائیل۔27) فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔اعاذنا اللہ منہ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت