فهرس الكتاب

الصفحة 145 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: ڈاڑھی میں خلال کرنے کا بیان

145 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ يَعْنِي الرَّبِيعَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ زَوْرَانَ عَنْ أَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَأَدْخَلَهُ تَحْتَ حَنَكِهِ فَخَلَّلَ بِهِ لِحْيَتَهُ وَقَالَ هَكَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَبُو دَاوُد وَالْوَلِيدُ بْنُ زَوْرَانَ رَوَى عَنْهُ حَجَّاجُ بْنُ حَجَّاحٍ وَأَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ

سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو کرتے تو پانی کا ایک چلو لے کر اپنی ٹھوڑی کے نیچے داخل کرتے اور اس سے ڈاڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے " مجھے میرے رب عزوجل نے ایسے ہی حکم دیا ہے ۔ " امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ ولید بن زوران سے حجاج بن حجاج اور ابوملیح رقی نے ( بھی ) روایت کیا ہے ۔

فائدہ: وضو میں ڈاڑھی کا خلال تاکیدی سنت ہے، البتہ غسل جنابت میں اسے دھونا چاہیے، اس لیے کے ہر ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت