فهرس الكتاب

الصفحة 2709 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: دوران معرکہ غیر تقسیم شدہ غنیمت کے اسلحہ سے قتال کرنا جائز ہے

2709 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ:، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، قَالَ: قَالَ أبو دَاود: هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السُّبَيْعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السُّبَيْعِيِّ، قَالَ:، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَرَرْتُ، فَإِذَا أَبُو جَهْلٍ صَرِيعٌ قَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُهُ، فَقُلْتُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ يَا أَبَا جَهْلٍ! قَدْ أَخْزَى اللَّهُ الْأَخِرَ! قَالَ: وَلَا أَهَابُهُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَبْعَدُ مِنْ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ، فَضَرَبْتُهُ بِسَيْفٍ غَيْرِ طَائِلٍ، فَلَمْ يُغْنِ شَيْئًا، حَتَّى سَقَطَ سَيْفُهُ مِنْ يَدِهِ، فَضَرَبْتُهُ بِهِ حَتَّى بَرَدَ

سیدنا ابوعبیدہ اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ ) سے روایت کرتے ہیں کہ ( غزوہ بدر میں ) میں ابوجہل کے پاس سے گزرا ۔ وہ گرا پڑا تھا اور اس کی ٹانگ پر ضرب لگی تھی ۔ میں نے اس سے کہا: اے اﷲ کے دشمن ! اے ابوجہل ! ( بالآخر ) اﷲ نے ( تجھ ) کمینے کو ذلیل کر ہی دیا ( ابن مسعود ؓ ) کہتے ہیں کہ مجھے اس وقت اس سے کوئی خوف نہ تھا ۔ تو اس نے کہا: تعجب ( اور حسرت ) ہے اس آدمی پر کہ اس کی اپنی ہی قوم نے اسے قتل کر دیا تو میں نے اس کو اپنی تلوار سے مارا جو کند سی تھی اور اس نے کوئی فائدہ نہ دیا ۔ ( اسے قتل نہ کر سکی ۔ ) لیکن اس کے ہاتھ سے اس کی تلوار گر گئی ، تب میں نے اس سے اس کو مارا حتیٰ کہ ٹھنڈا ہو گیا ۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کافر ہی کی تلوار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے قتل کیا۔اور یہ استفادہ تقسیم سے پہلے کیا گیا جو بالکل بجا تھا۔ابو جہل کا مختصر بیان پیچھے حدیث 680 میں دیکھیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت