فهرس الكتاب

الصفحة 3101 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: باربار عیادت کرنا

3101 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُصِيبَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ فِي الْأَكْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا سعد بن معاذ ؓ جنگ خندق میں زخمی ہو گئے ۔ ایک آدمی نے ان کے بازو کی رگ ( رگ ہفت اندام ) پر نشانہ مارا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوا لیا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کرتے رہیں ۔

1۔مریض کے احوال کو ملحوظ رکھتے ہوئے عیادت کے لئے بار بار آنا اسلامی اور اخلاق حسنہ کا حصہ ہے۔نہ کہ کوئی معوب بات۔بالخصوص مریض جب کوئی اہم آدمی ہو۔2۔ضرورت شرعی کے تحت مسجد (یا اس کے ساتھ ملحق حجروں) میں اقامت اختیارکرلینا یا کسی کو اقامت دیناجائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت