فهرس الكتاب

الصفحة 3728 من 5274

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

باب: پانی میں پھونک مارنا اور برتن میں سانس لینا

3728 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے ۔

فائدہ۔ 1۔افضل یہ ہے کہ انسان تین سانس میں پیے اور برتن کومنہ سے الگ کرکے سانس لے۔2۔کھانے پینے کی چیز میں پھونک مارنا بھی جائز نہیں۔اگر کھانا یا مشروب زیادہ گرم ہو تو انتظار کرلے اور ٹھنڈا کرکے کھائے پئے۔اس طرح اگر کوئی تنکا وغیرہ اس میں گرا پڑا ہوتو ہاتھ سے نکال لے پھونک نہ مارے۔3۔بعض علماء تبرک کےلئے قرآن کریم یا کوئی دعا پڑھ کے دم کرنے کو بھی ناجائز کہتے ہیں۔جب کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ اور مسنون ادعیہ پڑھنے سے اس میں کچھ تاثیر پیدا ہوجاتی ہے۔اس لئے وہ دم کرکے پھونک مارنے کو ممنوع نفخ میں شامل نہیں کرتے۔بلکہ اس کوجائز قرار دیتے ہیں۔ (تفصیل کےلئے حدیث نمبر 3722۔کے فوائد ومسائل دیکھیں)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت