1114 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ, فَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَذْكُرَا عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " تم میں سے جب کوئی اپنی نماز میں بےوضو ہو جائے ' تو چاہیئے کہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھے اور چلا جائے " ۔ امام بوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو حماد بن سلمہ اور ابواسامہ نے «عن هشام ، عن أبيه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے ۔ اس میں ہے کہ " جب کوئی آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو ۔" انہوں نے سیدہ عائشہ ؓا کا واسطہ ذکر نہیں کیا ۔
یعنی اس معاملے میں نماز اور خطبے کا معاملہ تقریبا ایک ہی ہے۔اور بے وضو ہوجانے کی صورت میں تقریبا ناک پرہاتھ رکھ کرچلے جانا بیان عذر کی ایک علامت بتائی گئی ہے۔