فهرس الكتاب

الصفحة 297 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: ان حضرات کے دلائل جو کہتے ہیں کہ مستحاضہ طہر سے طہرتک ایک غسل کرے

297 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: >تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، وَالْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ عُثْمَانُ وَتَصُومُ وَتُصَلِّي

جناب عدی بن ثابت اپنے والد سے وہ اس ( عدی ) کے نانا سے وہ نبی کریم ﷺ سے راوی ہیں کہ آپ ﷺ نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا " اپنے حیض کے ایام کی نمازیں چھوڑ دے پھر غسل کرے اور نماز پڑھنا شروع کر دے اور ہر نماز کے لیے وضو کیا کرے ۔ " امام ابوداؤد ؓ نے کہا: عثمان نے زیادہ کیا: " روزے رکھے اور نماز پڑھے ۔ "

اور یہی بات دلائل کے اعتبار سے قوی ہےاور جمہور اسی کے قائل ہیں اور دیگر احادیث کہ ہر نماز کے لیے غسل یا دو نمازوں کے لیے غسل یہ سب استحباب کے معنی میں ہے ۔ یعنی اس عمل کو نقل ، مستحب اور باعث اجر وثواب سمجھا جانا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت