4662 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ح، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: >إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُصْلِحَ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ أُمَّتِيوَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ
سیدنا ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن بن علی ؓ کے متعلق فرمایا " میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے میری امت کے دو گروہوں میں صلح کرا دے گا ۔ " حماد کی روایت کے الفاظ ہیں: " اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے گا ۔"
1: حضرت علی رضی اللہ کے دور میں سیدنا عثمان رضی اللہ کی شہادت کی بنا پر ہر مسلمان دو گرہوں میں بٹ گئے تھے ۔ ایک طرف علی رضی اللہ تھے اوردوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ اور دونوں ہی اپنی اپنی ترجیحات میں بر حق تھے ،تاہم سیدنا علی رضی اللہ کا موقف اقرب الی الحق تھا ۔
2: سیدنا حسن رضی اللہ نے اپنی خلافت سے دست بردارہو کر ایک عظیم کارنامہ سرانجام دیا اور اس کی وجہ سے ان کے شرف سیادت میں اور اضافہ ہو گیا ۔ مگر کچھ لوگوں کو اب تک ان کا یہ عمل ناپسند ہے ۔
3: رسول ؐ نے دونوں اطراف کے لوگوں کو اپنی امت کے مسلمان قراردیا ہے اورکسی کو بھی گمراہ یا باطل نہیں فرمایا۔
4: صحابہ کرام یا پھر فقہا ءوائمہ کی اجتہادی غلطیوں کی اشاعت کرنا بہت بڑا اور برا فتنہ ہے ،صرف خاص محدود علمی حلقہ میں ان کے مسائل کی علمی تفہیم جائز ہے ۔