فهرس الكتاب

الصفحة 2186 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: آدمی رجوع کرے مگر گواہ نہ بنائے تو...؟

2186 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ سُلَيْمَانَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ يَقَعُ بِهَا، وَلَمْ يُشْهِدْ عَلَى طَلَاقِهَا وَلَا عَلَى رَجْعَتِهَا؟ فَقَالَ: طَلَّقْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ، وَرَاجَعْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ، أَشْهِدْ عَلَى طَلَاقِهَا، وَعَلَى رَجْعَتِهَا, وَلَا تَعُدْ.

سیدنا عمران بن حصین ؓ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور پھر اس سے مباشرت کر لیتا ہے مگر طلاق دینے یا اس سے رجوع کرنے پر گواہ نہیں بناتا ۔ انہوں نے کہا: تو نے خلاف سنت طلاق دی اور خلاف سنت ہی رجوع کیا ۔ بیوی کو طلاق دیتے وقت گواہ بناؤ اور رجوع کے وقت بھی ۔ اور پھر ایسے نہ کرنا ۔

سورۃالطلاق میں ہے: فاذا بلغن اجلهن فامسكوهن بمعروف اوفارقوهن بمعروف واشهدوا ذوي عدل منكم) (الطلاق:2) جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعدہ کے مطابق اپنے نکاح میں رکھویا دستور کے مطابق الگ کردو۔اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کرلو اور طلاق اور رجوع میں گواہ بنالینا مستحب اور افضل ہے بالخصوص جب رجوع زبانی ہو۔رجوع بالفعل میں گواہ کے کوئی معنی نہیں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت