4590 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أُنَاسٌ فُقَرَاءُ فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا
سیدنا عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ فقیر لوگوں کا ایک غلام تھا ، اس نے امیر لوگوں کے ایک غلام کا کان کاٹ دیا یہ ( امیر ) لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس مقدمہ لے آئے تو دوسروں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم لوگ فقیر ہیں ، تو آپ ﷺ نے ان پر کوئی چیز نہ ڈالی ۔
بعض محققین کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے ۔
2:اس حدیث غلام کا ایک ترجمہ معروف معنی میں ہے کہ وہ عبد مملوک تھے ،چونکہ یہ معاملہ مملوکوں کے مابین تھااورقصورکے مالک فقیر بھی تھےاس لئےان پر کچھ نہ ڈالا گیا اور دوسراترجمعہ نو عمر لڑکے بھی کیا گیا ہے یعنی وہ آزادتھےمگران کے لڑکپن،خطااورقصورکے ولی فقیرہونے کی وجہ سے ان پر کچھ نہ ڈالا۔