718 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَمَعَهُ عَبَّاسٌ فَصَلَّى فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكَلْبَةٌ تَعْبَثَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَا بَالَى ذَلِكَ
سیدنا فضل بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم باہر اپنے دیہات میں تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا عباس ؓ بھی تھے ۔ آپ ﷺ نے صحراء میں نماز پڑھی آپ ﷺ کے سامنے سترہ نہ تھا ۔ ہماری گدھی اور کتیا آپ کے سامنے کھیل رہی تھیں اور آپ نے اس کی کوئی پروا نہ کی ۔
: احتمال ہےکہ یہ جانور قدرے فاصلے پرہوں یہاں ان کے آگے سے گزرنے کی تصریح بھی نہیں ہے۔علاوہ ازیں یہ روایت بھی ضعیف ہے۔