2298 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: 240] ، فَنُسِخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْمِيرَاثِ بِمَا فَرَضَ لَهُنَّ مِنَ الرُّبُعِ، وَالثُّمُنِ، وَنُسِخَ أَجَلُ الْحَوْلِ, بِأَنْ جُعِلَ أَجَلُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
آیت کریمہ «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» " اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور اپنے پیچھے اپنی بیویاں چھوڑ جائیں تو ( انہیں چاہیئے کہ ) اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک انہیں خرچ دینا ہے اور گھر سے نہیں نکالنا ہے ۔ " کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ حکم آیت میراث سے منسوخ ہے اور انہیں چوتھا یا آٹھواں حصہ ملے گا ۔ اور ایک سال کی مدت بھی منسوخ ہے اور اب اس کی مدت ( عدت صرف ) چار ماہ دس دن ہے ۔
خاوند کی اگر اولاد ہو تو بیوی کو آٹھواں حصہ ملتا ہے ورنہ چوتھا ۔