2442 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ, صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ, كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةُ، وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ عاشورا ( دسویں محرم ) کا دن ایسا تھا کہ اہل قریش اسلام سے پہلے اس کا روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی نبوت سے پہلے یہ روزہ رکھتے تھے ۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا ۔ پس جب رمضان فرض ہوا تو وہی فریضہ ہو گیا اور عاشورا چھوڑ دیا گیا ، جو چاہتا رکھ لیتا اور جو چاہتا نہ رکھتا ۔