فهرس الكتاب

الصفحة 2443 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: یوم عاشورا کے روزے کا بیان

2443 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا نَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ, قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّه،ِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.

سیدنا ابن عمر ؓ کا بیان ہے کہ اسلام سے پہلے ہم دسویں محرم کو روزہ رکھا کرتے تھے ۔ جب رمضان کا حکم نازل ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے جو چاہے اس کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔ "

دن تو سارے ہی اللہ کے ہیں، مگر جن ایام میں کوئی خاص واقعہ پیش آیا ہو اور دینی و شرعی اعتبار سے ان کی اہمیت ہو، تو انہیں (أَيَّامَ ٱللَّهِ) کہا گیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت