فهرس الكتاب

الصفحة 1684 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: خزانچی کا ثواب

1684 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ

سیدنا ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " بلاشبہ امانت دار خزانچی جو مالک کے حکم کے مطابق دل کی خوشی سے پورا پورا دے ، یہاں تک کہ جس کے متعلق کہا گیا ہے اسے دیدے ، وہ دو صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔ ( ایک اصل مالک جس نے دینے کا حکم دیا اور دوسرا یہ جس نے ادا کیا ) ۔

ایسے خازن کےلئے مسلمان ہونے کے علاوہ چار شرطیں زکر کی گئی ہیں۔مالک کی اجازت خوشی سے دینا۔پورا پورا دینا اسے دینا جس کے بارے میں حکمدیا گیا۔نیز یہ بھی معلوم ہواکہ صدقہ کرنے والے کو اصل مالک کی ہدایات پر پورا پورا عمل کرنا چاہیے۔بغیر معقول عذر کے ان میں تبدیلی نہیں کرنی چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت