فهرس الكتاب

الصفحة 1625 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: کیا ایک شہر کی زکوٰۃ دوسرے شہر میں منتقل کی جا سکتی ہے؟

1625 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ أَخْبَرَنَا أَبِي أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ زِيَادًا أَوْ بَعْضَ الْأُمَرَاءِ بَعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ لِعِمْرَانَ أَيْنَ الْمَالُ قَالَ وَلِلْمَالِ أَرْسَلْتَنِي أَخَذْنَاهَا مِنْ حَيْثُ كُنَّا نَأْخُذُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَضَعْنَاهَا حَيْثُ كُنَّا نَضَعُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابراہیم بن عطاء کے والد سے روایت ہے کہ زیاد نے یا کسی اور امیر نے سیدنا عمران بن حصین ؓ کو صدقات ( زکوٰۃ ) وصول کرنے کے لیے مقرر کیا ۔ جب وہ واپس آئے تو امیر نے سیدنا عمران ؓ سے پوچھا مال کہاں ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کیا آپ نے مجھے مال ( جمع کرنے ) کے لیے بھیجا تھا ؟ ہم نے زکوٰۃ وصول کی جہاں سے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لیا کرتے تھے اور وہیں لگا دی جہاں رسول اللہ ﷺ کے دور میں لگایا کرتے تھے ۔ ( علاقے کے اغنیاء سے لے کر وہاں کے فقراء اور مساکین میں تقسیم کر دی ۔ )

اصل بنیادی قاعدہ زکواۃ کے بارے میں یہی ہے کہ جس شہر سے لی جائے وہیں کے حاجت مندوں میں تقسیم کردی جائے۔ہاں دوسرے شہر میں اگر زیادہ ضرورت مند ہوں تو اسے منتقل کرنا جائز ہے۔جیسے کے دور نبوت میں اطراف واکناف سے زکواۃ جمع ہوتی اور مرکز مدینہ میں لائی جاتی۔اور اہل مدینہ کو بھی دی جاتی تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت