فهرس الكتاب

الصفحة 2412 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: مسافر جب سفر کے لیے نکلے تو کس وقت افطار کرے ؟

2412 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ح، وحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْمَعْنَى، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ وَزَادَ جَعْفَرٌ وَاللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدٍ قَالَ جَعْفَرٌ ابْنُ جَبْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفِينَةٍ مِنَ الْفُسْطَاطِ فِي رَمَضَانَ، فَرُفِعَ، ثُمَّ قُرِّبَ غَدَاهُ، قَالَ جَعْفَرٌ فِي حَدِيثِهِ فَلَمْ يُجَاوِزِ الْبُيُوتَ، حَتَّى دَعَا بِالسُّفْرَةِ، قَالَ: اقْتَرِبْ، قُلْتُ: أَلَسْتَ تَرَى الْبُيُوتَ؟! قَالَ أَبُو بَصْرَةَ: أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! قَالَ جَعْفَرٌ فِي حَدِيثِهِ فَأَكَلَ.

عبید بن جبر کہتے ہیں کہ میں صحابی رسول سیدنا ابو بصرہ غفاری ؓ کے ہمراہ تھا ۔ ہم ماہ رمضان میں فسطاط سے کشتی میں سوار ہوئے ۔ جب لنگر اٹھا لیا گیا تو انہیں ان کا صبح کا کھانا پیش کیا گیا ۔ جعفر بن مسافر نے اپنی روایت میں کہا ۔ ابھی گھروں سے دور بھی نہ ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنا دستر خواں طلب کیا اور کہا کہ قریب ہو جاؤ ۔ میں ( عبید ) نے کہا: کیا آپ گھروں کو نہیں دیکھ رہے ؟ جناب ابو بصرہ نے کہا: کیا تم سنت رسول اللہ ﷺ سے اغراض کرنا چاہتے ہو ؟ جعفر نے بیان کیا ، چنانچہ انہوں نے کھانا کھایا ۔

سفر شروع ہوتے ہی افطار کر لینا جائز ہے۔ گھروں سے دور ہونا کوئی ضروری نہیں۔ حسن بصری رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں کہ گھر ہی میں افطار کر سکتا ہے۔ اسحٰق بن راہویہ رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھے تو افطار کر لے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت