فهرس الكتاب

الصفحة 3580 من 5274

کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل

باب: رشوت حرام ہے

3580 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي

سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور لینے والے کو لعنت فرمائی ہے ۔

فائدہ۔کسی دوسرے کا حق مارنے کےلئے کسی حاکم قاضی یا اہلکار کو کچھ دینا رشوت اور حرام ہے۔لیکن اگر کوئی ہلکار ظاہم ہو اور حقداروں کے حقوق بھی اس کے پاس محفوظ نہ رہتے ہوں یا وہ لوگوں سے طلب کرتا ہو یااسے دینا پڑتا ہو تواصل عزیمت یہی ہے کہ اسے کچھ نہ دیا جائے۔اور وہ معاملہ اللہ پرچھوڑتے ہوئے اس ظاہم سے چھٹکارے کی سبیل کی جائے۔اور اگر یہ ممکن نہ ہو اور صرف اور صرف اپنے جائز حق کےلئے شدید مجبوری کی صورت میں کبھی کچھ دینا پڑ جائے۔تو اس پر کثرت سے ااستفغار کرے۔ لینے والے کے حق میں یہ یقینًا رشوت اور حرام ہے۔بلکہ صاحب حق کو مجبور کرنے کی سزا کا بھی مستحق ہے۔واللہ اعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت