فهرس الكتاب

الصفحة 3328 من 5274

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل

باب: معاون( کانوں )سے مال نکالنا

3328 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ فَتَحَمَّلَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ قَالَ مِنْ مَعْدِنٍ قَالَ لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهَا وَلَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص اپنے مقروض کے ساتھ چمٹ گیا جس نے اس کے دس دینار دینے تھے ۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! جب تک تو مجھے دے نہیں دیتا میں تجھے ہرگز نہیں چھوڑوں گا ، سوائے اس کے کہ تو کوئی ضامن یا کفیل لے آئے ۔ تو نبی کریم ﷺ نے وہ اپنے ذمے لے لیے ۔ پھر وہ آدمی حسب وعدہ مال لے کر آیا تو نبی کریم ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا " تمہیں یہ سونا کہاں سے مل گیا ہے ؟ " اس نے کہا: ایک کان سے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " ہمیں اس کی ضرورت نہیں ( اور ) اس میں خیر نہیں ۔ " پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف سے قرض ادا فر دیا ۔

1۔معاون (کانوں) سےاسلامی حکومت کی اجازت سے شرعی شرائط کے مطابق مال نکالنا جائز ہے۔2۔ اس شخص کو جو سونا کان سے ملا تھا۔اس کا طریق حصول غیر واضح تھا۔اس لئے یقینی طور پر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کہ وہ اس کا جائز مالک ہے یا نہیں اس لئے آپ نے اس کو قبول نہیں فرمایا3۔مقروض جب قرض ادا نہ کررہا ہو تو چمٹ کر مطالبہ کرنا مباح ہے۔4۔مسلمان مقروض کی مددکرنا اس کا کفیل یا ضامن بن جانا بہت بڑا احسان اور نیکی کا کام ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت