947 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال:َ >نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ.
قَالَ أَبو دَاود: يَعْنِي: يَضَعُ يَدَهُ عَلَى خَاصِرَتِهِ.
سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کے دوران میں پہلوؤں پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں «الاختصار في الصلاة» کا معنی ہے اپنے پہلوؤں ( یعنی کوکھوں ) پر ہاتھ رکھنا ۔
اہل لغت نے اختصار کے دو تین معانی زکر کیے ہیں۔ایک یہ کہ لاٹھی کا سہارا لے کرکھڑے ہونا دوسرے صورت قرآن کو مختصر کرتے ہوئے آخر سے پڑھنا یا نماز کے ارکان کو اذ حد مختصر (چھوٹا ) کردینا۔تو امام صاحب نے اس کا معنی متعین فرمادیاہے۔اور یہی صحیح ہے۔ (مذید دیکھئے۔باب ۔155۔156۔حدیث903)