فهرس الكتاب

الصفحة 5205 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: ذمیوں( کافروں )کو سلام

5205 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ بِصَوَامِعَ فِيهَا نَصَارَى فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ أَبِي لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِ الطَّرِيقِ

جناب سہیل بن ابوصالح نے کہا میں اپنے والد کے ساتھ شام کی طرف گیا تو لوگ عیسائیوں کے عبادت خانوں پر سے گزرے ، تو انہیں سلام کہتے تھے ۔ میرے والد نے کہا: انہیں سلام کہنے میں ابتداء نہ کرو ، اس لیے کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے ہمیں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان بیان کیا ہے: " ان لوگوں ( کافروں ) کو سلام کہنے میں ابتداء نہ کرو اور جب تم انہیں راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو ۔"

اس انداز میں دین اسلام اور اہل اسلام کی رفعت اور بلندی کا اظہار ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت