فهرس الكتاب

الصفحة 5206 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: ذمیوں( کافروں )کو سلام

5206 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ قَالَ أَبُو دَاوُد وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ فِيهِ وَعَلَيْكُمْ

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " یہودی جب تمہیں سلام کہتے ہیں تو ( لفظ ) «السام عليكم» بولتے ہیں ( تم پر موت آئے ) تو تم انہیں جواب میں «وعليكم» کہا کرو ۔ ( جو تم نے کہا ہے وہ تمہی پر ہو ) ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو امام مالک اور ثوری نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح بیان کیا ہے ۔ اس میں کہا: «وعليكم» ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت