فهرس الكتاب

الصفحة 939 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: نماز میں تالی بجانا

939 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:َ >التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ

سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " تسبیح ( «سبحان الله» کہنا ) مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ۔ "

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔کہ نماز کے دوران میں اگر امام کو کسی امر کےلئے متنبہ کرنا ہو تو مسنون یہ ہے کہ مرد سبحان اللہ کہیں مگر عورت تالی بجائے۔اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے بایئں ہاتھ کی پشت پر مارے نہ کہ معروف تالی کی طرح کیونکہ یہ لہولعب ہے۔ اور نماز میں لہو لعب جائز نہیں۔عورتوں کو تسبیح کہنے سے اس لئے روکا گیا ہے کہ ان کی آواز کسی فتنے کا باعث نہ بنے۔اور مردوں کوتالی سے اس لئے منع کیاگیا ہے کہ یہ عورتوں کا کام ہے۔ (عون المعبود)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت