فهرس الكتاب

الصفحة 5265 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: چیونٹیوں کو مارنے کا مسئلہ

5265 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی کسی درخت کے نیچے اترے تو ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ لیا تو انہوں نے اس کے پورے بل کو اس کے نیچے سے نکالنے کا حکم دیا اور پھر حکم دیا اور انہیں جلا دیا گیا ۔ تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی کہ صرف ایک ہی کو کیوں نہ مارا ( جس نے کہ کاٹا تھا ) ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت