4536 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ قَسْمًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَالَ فَاسْتَقِدْ فَقَالَ بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ ایک آدمی آیا اور آپ ﷺ کے اوپر جھک گیا ، تو آپ ﷺ نے اپنی کھجور کی لاٹھی سے جو آپ کے پاس تھی اسے کچوکا دیا ، پس اس سے اس کا چہرہ زخمی ہو گیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا " آؤ اور اپنا بدلہ لے لو ۔ " اس نے جواب دیا اے اللہ کے رسول ! میں نے معاف کیا ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے مگر باب بالکل صحیح ہے کہ نبی ؐ اپنے آپ کو بدلہ دینے کےلئے پیش فرما دیا کرتے تھے جیسے کہ آئندہ حدیث 5224 میں آرہا ہے ۔